حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کی انقلابی فورسز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ملکی سیاسی و قانونی صورتِ حال اور اقتصادی و معاشی حالات میں مسلسل گراوٹ پر تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی اور مذہبی آزادیوں پر عائد پابندیوں کا تسلسل موجودہ بحران کو مزید بدتر کرنے کا باعث ہو گا۔
انقلابی فورسز نے 8 نومبر 2026ء کو متعدد علمائے دین کے خلاف ہونے والی ظالمانہ عدالتی کارروائیوں کی مقررہ تاریخ ایک بار پھر مذمت کی اور انہیں سیاسی نوعیت کے مقدمات قرار دیا، جن کا مقصد مذہبی آزادی اور تبلیغی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔

انہوں نے بحرین کے تمام سماجی طبقات سے مطالبہ کیا کہ وہ آزادیوں اور دینی و قومی کامیابیوں کے دفاع میں اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
قابل ذکر ہے کہ سیاسی قیدیوں کی صورتِ حال کے حوالے سے انقلابی فورسز نے جو مرکزی جیل میں قید ہیں اور بھوک ہڑتال کے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں، ان کے عزم و استقامت کو سراہا۔ انہوں نے جیل انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو قیدیوں کی صحت اور زندگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے مطالبات کا جواب دیا جائے، من مانے اقدامات روکے جائیں اور تمام ضمیر کے قیدیوں کو رہا کیا جائے۔











آپ کا تبصرہ